مہینوال کا عشق ادھورا ہے
Poet: Abida Taqi By: Shazia Hafeez, Attockمہینوال کا عشق ادھورا ہے
کبھی تم بھی پتن چناں اترو
اک گاگر سنگ
مہینوال ملنگ
یہ کونسا عشق طریقہ ہے
یہ کیسا ڈھنگ
مہینوال ملنگ
جب بھپری موجوں میں کوئی پریمی بلوائے
محبوب کو دور کنارہ بھی
اگر عاشقی سچی ہو تو ڈوبنے سے پہلے
خشکی پر آن اتارے بھی
بس سچی پیار میں وہ تھی کہ
جو پیار کو کر محبوب گئی
اک سچ کو لے کر ڈوب گئی
گر تم بھی سچے عاشق تھے
کیوں ناں اترے اس رات
کو کچی گاگر سنگ
مہینوال ملنگ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






