میرا آ ج تیرا کل بن سکتا ہے
Poet: Uroosa NAZ By: Uroosa Naz, karachiمیرا آ ج تیرا کل بن سکتا ہے
یہ برا وقت ہے کبھی بھی بدل سکتا ہے
جو خدا تیرا ہے وہ میرا بھی ہے۔۔۔
جو تجھے ملا وہ مجھے بھی مل سکتا ہے۔۔۔
کٹھن راستے خود ہی بتا دیتے ہیں۔۔۔
کہ اُن راستوں پہ ساتھ کون چل سکتا ہے
جانے والوں کو روکنا عادت نہیں ہے ہماری
جو جب چاہیں زندگی سے نکل سکتا ہے۔۔۔
جو نہیں ملا۔..تو نہ ملے شکوہ نہیں ہے
دل اب بچہ نہیں رہا بہل سکتا ہے۔۔
طوفان کے ڈر سے کیااپنا آشیاں چھوڑ دیں
طوفان ہی تو ہے ٹل سکتا ہے۔۔
تھکنا نہیں ہے دستک دیتے رہنا ہے
وہ درِ خدا ہے کبھی بھی کُھل سکتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






