میرا جرم الفت، افت بھی شاعرا سے
Poet: محمد امین علی By: محمد امین علی, Kunriجب جدا ہو تو بھلا کیوں نہیں دیتے
دینے کو کچھ نہیں تو سزا کیوں نہیں دیتے
میرا جرم ہے الفت، الفت بھی شاعرا سے
لکھے جو میرے نام سے ہیں چند وہ اشعار مٹا کیوں نہیں دیتے
ہے یہ باولا امین فقط دید پر ہی خوش تو
کہو نہ پھر یہ عنایت کیوں نہیں کرتے
کل مجھ سے مخاطب تھے جو جاناں جاناں
آج ہم سے وہ کلام کیوں نہیں کرتے
میں تھا کہ کوششیں کرتا مسلسل کسے خوش کرنے کی
وہ جو خود اپنے اختیار میں نہ تھے امین تیرے کیا ہوتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






