میرا دل تو نہیں کر تا تھا کہ میں تیرے ساتھ جدائی ڈالوں
Poet: M,masood By: M,masood, Nottinghamمیرا دل تو نہیں کر تا تھا
کہ میں
تیرے ساتھ جدائی ڈالوں
آ کے پردیس میں
میں بہت رویا
ٹکڑے ٹکڑے
میرا دل بھی ہوا یہاں
میں اپنی خوشی کے ساتھ
پردیس میں نہیں آیا تھا
بس مجھے
میری مجبوریاں لے آئ
پردیس میں
کر دیا الگ جب
مجھے اپنے ہی لوگوں نے
مجھے اپنوں سے
اب تو
بڑی مشکل سے گُزرتی ہیں
یہ جدائی والی راتیں بھی
میرا دل تو نہیں کر تا تھا
کہ میں
تیرے ساتھ جدائی ڈالوں
روتا ہوں اب میں پردیس میں بیٹھ کر
آتی ہیں وہ یادیں جو گزُاری اپنے دیس میں بیٹھ کر
زندگی جو گزاری نہ جا سکی ہم سےاپنے دیس میں
ذندگی ہم نے وہ زندگی گزاری ہے پردیس میں
میرا دل تو نہیں کر تا تھا
کہ میں
تیرے ساتھ جدائی ڈالوں
مسعود دُکھ پردیس والے جان نہ تارے اب
دل بھی ڈُوب گیا سوچوں کے کنارے اب
اب سوچ لیا ہے
باقی زندگی
اپنوں کے ساتھ گزرے گی جب
تو ختم ہو جائیں گے سارے غم
تمہارے پیار کی یادیں نہیں بھُولتے
کر کر یاد آنکھوں سے آنسو نہیں رُوکتے
میرا دل تو نہیں کر تا تھا
کہ میں
تیرے ساتھ جدائی ڈالوں
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






