میرا رشتہ کیا ہے تجھ سے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaمیرا رشتہ کیا ہے تجھ سے
سب نے یہ سوال ُاٹھایا ہے
اک معصوم کی محبت پے جاناں
یہ کیسا طوفان چھایا ہے
توں نے بھی منہ پھیر لیا مجھ سے
جب سے الزاموں نے ساتھ نبھایا ہے
وہ چاہتا تو نکال سکتا تھا مجھے لکی
نجانے کیا سوچ کر میرا سفینہ ڈابویا ہے
اب بازی عشق کس بنا پر کھیلے
جبکہ ہماری محبت کو سب نے گناہ ٹہرایا ہے
یادوں کے سوا اب کچھ نہیں ہمارے پاس
اور ُاس نے امیر کہہ کر ہمیں غریب بنھایا ہے
سوچتی ہوں کیا رستہ بدل دوں اپنا مگر
دل کہتا ہیں کہ --- نا لکی میں نے سجدوں میں سر جھکایا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






