میرا غم کبھی جدا نہیں ہوتا

Poet: ZIA ULLAH TAHIR By: ZIA ULLAH TAHIR, ISLAMABAD.

میرا غم کبھی جدا نہیں ہوتا
زخم کوئی بھی نیا نہیں ہوتا

دیکھا ہے ہر شخص کو خدا بنتے
جیسے کوئی دوسرا خدا نہیں ہوتا

سارے دریاؤں کا پانی میرے اندر تھا
میں اپنی ذات میں ، اک سمندر تھا

رشک مجھ پر تھا ، واجب بہر صورت
دنیائے غم و حسرت کا میں سکندر تھا

میرے راستے میں جتنے بھی پتھر آتے ہیں
میرے خون کے خریددار نظر آتے ہیں

میں نے کچھ بھی ، نہیں بگاڑا ان کا
جو بن کے دشمن ، میرے گھر آتے ہیں

خوف رسوائی تھا ، لب کشائی کیا کرتے
کٹے تھے پاؤں ، بادیہ پیمائی کیا کرتے

جب ہم ہی ، بے موت مر گئے لوگوں
پھر ان کا دعوے مسیحائی کیا کرتے

کس خزاں ، کس بہار کی بات کرتے ہو
دل کے اجڑے دیار کی بات کرتے ہو

لکھا ہوا اپنا ، بھول جاتے ہیں لوگ
نادان ہو زبانی ، اقرار کی بات کرتے ہو

Rate it:
Views: 631
23 Apr, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL