میرا نہیں کسی اور کا یار آج کل ہے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiمیرا نہیں کسی اور کا یار آج کل ہے
کرتا اسے وہ مخلص ہی پیار آج کل ہے
رب جانے کون سا صدمہ لگ گیا اسے ہے
لگتا شکل سے ہی وہ بیمار آج کل ہے
اچھے نصیب ہوتے مل جاتے وہ کہیں پر
ہوتا کہاں ہمیں اب دیدار آج کل ہے
کرنا سفر اسے پرتا ہے بہت زیادہ
ہوجاتا جلدی سے وہ تیار آج کل ہے
اس نے خرید اب سائیکل نیا لیا ہے
اس کی وہ تیز رکھتا رفتار آج کل ہے
کب سے چلا گیا ہے رہتا نہیں یہاں وہ
شہزاد رہتا دریا کے پار آج کل ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






