میرا پھول جیسا یار
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRMINGHAMسوچتا ہوں کہ اس کا مجھ سے کیا ناطہ ہے
جو آنکھوں سے دور ہو کر بھی مجھے لبھاتا ہے
اس کا انداز اور لوگوں سے بڑا منفرد ہے
وہ اپنی ہر بات نظموں کی زبانی سناتا ہے
میں تو اسے دن میں کئی بار یاد کرتا ہوں
مگر اس کا نہ فون نہ کوئی خط آتا ہے
کیا کیا ارمان دنیا میں لے کر آتے ہیں سبھی
مگر ہر انسان قسمت کے آگے ہار جاتا ہے
کاش کوئی میرے کنول جیسے یار سے کہہ دے
کہ اصغر اسے دل ہی دل میں کتنا چاہتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







