میرا کوئی ہوتا تو.......!!
Poet: Arooj Fatima(Lucky) By: AF(Lucky), saudi Arabiaمیرا کوئی ہوتا تو
بتاتا تمہیں سمجههاتا تمہیں
کچهه تمہاری غلطی کا
کچهه میری نادانی کا بتاتا تمہیں
کس طرح سے مجهے توڑا ہے
میری بکههری ذات دیکههاتا تمہیں
میری آنکھوں میں اب
خواب جلتے ہیں
میری آنکھوں کی لالی کا
قصہ سناتا تمہیں
تمہارے وعدوں کے سارے الفاظ
دہرا کے بتاتا تمہیں
تمہارے تیروں جیسے لفظ
تم پر چلا کر دیکههاتا تمہیں
تم نے کیا کیا کیے ظلم مجهه پر
میری آنسوؤں کی داستان سناتا تمہیں
میری امیدوں کے بجتے چراغ
بلا کر دیکهتاتا تمہیں
کیا یوں ہی چههوڑ دیتے ہیں
اپنا بنا کر ؟
یہ سوال کوئی پوچههتا تمہیں
میرا کوئی ہوتا تو
مجهه سے ملاتا تمہیں
جھگڑوں کو ختم کر کے
دوستی کا سبق پڑههتا تمہیں
میں کس طرح کرتی ہو
شام و سحر تمارا انتظار
مجھے لے کر جانے کا کہتا تمہیں
زندگی یوں ہی برباد نہیں کرتے
خوشیوں کا راز بتاتا تمہیں
میرا کوئی ہوتا تو
بتاتا تمہیں سمجههاتا تمہی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






