میرا ہمدم مجھے ھی جفائیں نہ دے

Poet: (ذیشان نور صدیقی (ذیش By: Zeeshan Noor Siddiqui (ZEESH), Karachi

میرا ہمدم مجھے ھی جفائیں نہ دے
چاھتوں مجھے یہ دعائیں نہ دے

! لوٹ لیں چین بندوں کا یہ اے خدا
تو حسینوں کو اتنی ادائیں نہ دے

تو وفا شعار ھے، بےوفا تو نہیں
سن جفاؤں کے بدلے جفائیں نہ دے

پھر کوئی نہ محبّت کی جرات کرے
مجھ کو چاہت میں ایسی سزائیں نہ دے

ٹوٹ جائیں مراسم تو جڑتے نہیں
ٹوٹا پتا ھوں، اتنی ھوائیں نہ دے

جیسے تیسے جیا، تیری چاہت بنا
مجھ کو دل نہ دیا، اب خطائیں نہ دے

اب کی بکھروں تو کہہ دو، سمیٹے نہ وه
اپنی بانہوں کی مجھ کو پناہیں نہ دے

لوٹ کر میں نہ آوں گا ! جان جہاں
مجھ کو اب نہ بلا، یوں صدائیں نہ دے

میری چاہت ھے تو، دل کو دریا کرے
میں تو غلطی کروں، وه سزائیں نہ دے

مٹ رہا ھوں میں، حرف غلط کی طرح
اس سے کہہ دو، مجھے اب وفائیں نہ دے

میں شہید محبّت ھوں! حاجت نہیں
ذیش ! میرے کفن کو ردائیں نہ دے

Rate it:
Views: 571
20 Nov, 2020
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL