میرا ہمدم مجھے ھی جفائیں نہ دے
Poet: (ذیشان نور صدیقی (ذیش By: Zeeshan Noor Siddiqui (ZEESH), Karachiمیرا ہمدم مجھے ھی جفائیں نہ دے
چاھتوں مجھے یہ دعائیں نہ دے
! لوٹ لیں چین بندوں کا یہ اے خدا
تو حسینوں کو اتنی ادائیں نہ دے
تو وفا شعار ھے، بےوفا تو نہیں
سن جفاؤں کے بدلے جفائیں نہ دے
پھر کوئی نہ محبّت کی جرات کرے
مجھ کو چاہت میں ایسی سزائیں نہ دے
ٹوٹ جائیں مراسم تو جڑتے نہیں
ٹوٹا پتا ھوں، اتنی ھوائیں نہ دے
جیسے تیسے جیا، تیری چاہت بنا
مجھ کو دل نہ دیا، اب خطائیں نہ دے
اب کی بکھروں تو کہہ دو، سمیٹے نہ وه
اپنی بانہوں کی مجھ کو پناہیں نہ دے
لوٹ کر میں نہ آوں گا ! جان جہاں
مجھ کو اب نہ بلا، یوں صدائیں نہ دے
میری چاہت ھے تو، دل کو دریا کرے
میں تو غلطی کروں، وه سزائیں نہ دے
مٹ رہا ھوں میں، حرف غلط کی طرح
اس سے کہہ دو، مجھے اب وفائیں نہ دے
میں شہید محبّت ھوں! حاجت نہیں
ذیش ! میرے کفن کو ردائیں نہ دے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






