میری آنکھ جب تک گلابی رہے گی
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, RAWALPINDIمیری آنکھ جب تک گلابی رہے گی
اک شہرت شرابی شرابی رہے گی
نہ رہے گا کوئی فرق تم آؤ میکدے کو
گدائی رہے گی نہ نوابی رہے گی
زاہد مجھے جتنا چاہے قائل کر لو
میری فطرت میں پھر بھی خرابی رہے گی
کوئی کرشمہ مجھے سامنے تم دکھاؤ
ورنہ تیری یہ حقیقت کتابی رہے گی
وہ جب بھی نظر سے پلائیں گے ساقی
تیری مے میں مستی نہ گلابی رہے گی
اس گریہ محبت میں آنکھوں کی رنگت
تا روز قیامت گلابی رہے گی
سوکھ جائیں گے اک دن سمندر بھی جانا
مگر کہانی تیری آب آبی رہے گی
اشتیاق غم دنیا سے کیوں گھبرا رہے ہو
یہ زندگی ہے جب تک بے تابی رہے گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






