میری آنکھوں میں دیکھ لیا کرو
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaمیری آنکھوں میں دیکھ لیا کرو
خود کو سنوارنے کے لئے
دیکھو مجھے اب جانِ جاناں !
آئینے کی نیت پہ بھروسہ نہیں
میں نے کہی بار دیکھا ہے
میں نے کہی بار غور کیا
تُم جب مگن ہوتے ہو بہت
اپنے گیسوؤں کو سجانے میں
ترچھی نگاہ سے دیکھتا ہے تمہیں
اور پھرمسکراتا ہے عجیب سا
آئینے کی آنکھوں میں شیطانی دیکھی
آئینے کی آنکھوں میں بے ایمانی دیکھی
Plz ضد چھوڑو بات مان جاؤ
تُم نہ آئینے کو دیکھا کرو
تُم نہ آئینے میں سجا کرو
میری آنکھوں میں دیکھ لیا کرو
خود کو سنوارنے کے لئے۔۔۔
خود کو سنوارنے کے لئے۔۔۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






