میری آنکھوں میں محبت کے دیے جلتے ہیں
Poet: Sara Afzal By: Sara Afzal, Pakistanمیری آنکھوں میں محبت کے دیے جلتے ہیں
کیا ترے دل میں بھی چاہت کے دیے جلتے ہیں ؟
کس طرح تجھ کو بتاؤں مرے دن رات ہیں کیا
ہر گھڑی ایک ہی حسرت کے دیے جلتے ہیں
جانے کن لوگوں کو دنیا میں ملی ہیں خوشیاں
جانے کن کے لئے راحت کے دیے جلتے ہیں
جن کو انسانوں سے ہو پیار وہی اچھے ہیں
ان کی خاطر بڑی رحمت کے دیے جلتے ہیں
دور ہو جائیں گے آخر یہ اندھیرے اک دن
جستجو ہو تبھی قدرت کے دیے جلتے ہیں
اس کے شعروں پہ لٹا دوں میں سبھی کچھ سارہ
اس کے شعروں پہ تو شہرت کے دیے جلتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






