میری تحریر بن گئے

Poet: Rahat Jabeen By: Rahar Jabeen, karachi

 یہ شعر مرےذات کی تفسیر بن گئے
ہر لمحہ تیرےپیار کی تصویر بن گئے

میں کیا کروں میرا مقدرنہ بنے تم
یہ کم ہے کہ اور کی تقدیر بن گئے

دولت کے ترازو میں تولہ گیا ہمیں
انسان نہ ہوئےہم جاگیر بن گئے

چاہا جسے ہم نے خود سے بھی بڑھ کر
وہ اور کے خواب کی تعبیر بن گئے

رکھا تھا جنہیں ہم نے کبھی سب سے چھپا کر
ڈھل کر میرے لفظوں میں تحریر بن گئے

اک طرف کھڑے ہو کر ہم دیکھتے رہے
اس شخص کو جو محفل کی تنویر بن گئے

وہ چھوڑ گیا ہم کو اس راہ گذر پہ
اک بے نشان منزل کے ہم راہگیر بن گئے

جب بھی سراہا ہمیں نظروں میں سراہا
ہم تیری اک نگاہ کا اسیر بن گئے

میں سوچتی ہی رہ گئی بدلنے کو راستہ
تم بارہا ہی پیر کا زنجیر بن گئے

Rate it:
Views: 689
28 Nov, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL