میری جان ہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماں

Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOT

میری خوشیوں میری کا سامان ہے ماں
میرے لبوں کی کھلتی مسکان ہے ماں

خود دھوپ میں جلے مجھے رکھے اپنی پرچھائ تلے
میرے لیے تو آٹھواں آسمان ہے ماں

مجھ کو نہیں ہے طلب کسی جنت کی
میری جنت میری راحت میرا گلستان ہے ماں

مجھ کو نہ جلا سکے گی پرخطر راہوں کی تپش
میرے سر پہ رحمتوں کا سائبان ہے ماں

اک معصوم مسکراہٹ سے ڈال دیا اپنے غموں پر پردہ
میں نے جب بھی پوچھا کیوں پریشان ہے ماں

منزل کے خطرات بھی دور بھاگتے ہیں اس سے
جس شخص کے سنگ دعاؤں کی حفظان ہے ماں

ماں مجھ سے کہتی ہے میری جان ہے تو
امتیاز میں یہ کہتا ہوں میری جان ہے ماں

Rate it:
Views: 560
02 May, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL