میری خاموشی کو تم تو نہ سمجھ پاؤ گے
Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر , Mumbaiمیری خاموشی کو تم تو نہ سمجھ پاؤ گے
میرے یہ ضبط کو سمجھو تو تڑپ جاؤ گے
آزمائش سے کبھی نہ کوئی بچ پائے گا
ضبط کے ہی تو مطابق صلہ تم پاؤ گے
جو ہو جاہل تو زباں اس کی چلے گی ہر دم
جو ہو عاقل تو اسے پُر سُکُوں ہی پاؤ گے
کوئی ٹیلے پہ اکڑ کر نہ تو چڑھ سکتا ہے
یوں تو جھک کر کبھی پربت پہ پہنچ جاؤ گے
کوئی انداز بیاں ایسا کہ دل کو بھائے
جو نہ اخلاص ہو تو منہ کی ہی بس کھاؤ گے
درد ہونے پہ اثر کوئی کبھی روتا ہے
درد کے بڑھنے پہ خاموش ہی ہو جاؤ گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






