میری دوست۔۔۔۔۔۔۔
Poet: UA By: UA, Lahoreکبھی سادہ کبھی سندر کبھی معصوم لگتی ہے
کبھی دلکش کبھی ہنس مکھ کبھی مغموم لگتی ہے
کبھی کھوئی سی رہتی ہے خیالوں میں اجالوں میں
کبھی الجھی سی رہتی ہے حوالوں میں مثالوں میں
ہر اک سے خندہ پیشانی سے ملتی ہے جب ملتی ہے
مگر خود سے جدا لگتی ہے جب وہ خود سے ملتی ہے
وہ جب خاموش ہوتی ہے تو بس خاموش ہوتی ہے
بات کرنا شروع کر دے تو باتیں کرتی رہتی ہے
کبھی اپنوں بیگانوں کو بہت مغرور لگتی ہے
کبھی اپنوں بیگانوں کو بہت مسرور لگتی ہے
کوئی اس کو ہوا کے دوش پہ اڑتا بادل کہدے
کوئی اس کو قفس میں قید دیوانی پاگل کہدے
وہ سن لیتی ہے سبکی بات خندہ ہیشانی کیساتھ
وہ کر لیتی ہے سب سے بات خندہ پیشانی کیساتھ
کسی بلبل کی مانند گیت اسکے ہونٹوں پہ رقصاں
امیدوں کے چمکتے تارے اس کی پلکوں پہ لرزاں
“محبت“ اس کا گہنا ہے، “محبت“ اس کا کہنا ہے
بہت سادہ طبیعت ہے اسے سادہ ہی رہنا ہے
بہت البیلی مستانی محبت کی وہ دیوانی
سوا اپنے کسی کو وہ بھولی بھالی نہ پہچانی
ملی ہے اس کے لفظوں میں محبت ہی کی روانی
ملی ہے اس کی آنکھوں میں محبت ہی کی کہانی
میری ہمدم میری مخلص وہ میری دوست پرانی
لکھی ہے جسکی کہانی میں نے لفظوں کی زبانی
مجھے وہ آج بھی پہلے جیسی معصوم لگتی ہے
بہت دلکش بہت ہنس مکھ مگر مغموم لگتی ہے
کبھی سادہ کبھی سندر کبھی معصوم لگتی ہے
کبھی دلکش کبھی ہنس مکھ کبھی مغموم لگتی ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






