میری راتوں کی نیندوں کے تاوان بنا رکھے هیں

Poet: سیده سعدیه عنبر جیلانی By: سیده سعدیه عنبر جیلانی, فیصل آباد, پنجاب, پاکستان

میری راتوں کی نیندوں کے تاوان بنا رکھے ہیں
میری تعبیروں نے میرے خواب چرا رکھے ہیں

اب خاموشیوں میں مصروف ء سفر ہوں میں
لفظ میں نے سبھی اس کو سنا رکھے ہیں

کیسے ممکن ہے خطا ہو چال تیری
راز اپنے خود تجھ کو بتا رکھے ہیں

اناۓ ذات کا بجھا کے ہر اک شعلہ
دیپ ہم نے وفاؤں کے جلا رکھے ہیں

نشاں بھی میرے گوارہ نہیں ان کو
نام جن کے کبھی حروف ء دعا رکھے ہیں

اک تیری چاہ، اک تیری وفا کی خاطر
معیار اپنے ہم نے گرا رکھے ہیں

تجھ کو بتانے کے لئیے اپنی حقیقت
آنسو کئ خود میں چھپا رکھے ہیں

یہ ممکن ہی نہیں تو ملے نہ مجھ کو
ہم نے یونہی تو نهیں ہاتھ پھیلا رکھے ہیں

میں کہ منزل کی تلاش میں سرگرداں
واپسی کے سبھی رستے بھلا رکھے ہیں

اک درد سفر ہے حقیقت میں محبت عنبر
لوگوں نے تو بس افکار سجا رکھے ہیں

Rate it:
Views: 482
13 Apr, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL