میری زندگی میری منزلیں، مجھے قُرب میں نہیں دُور دے

Poet: Javed Akhtar By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

میری زندگی میری منزلیں، مجھے قُرب میں نہیں دُور دے
مجھے تو دکھا وہی راستہ، جو سفر کے بعد غرور دے

وہی جذبہ دے جو شدید ہو، ہو خوشی تو جیسے کہ عید ہو
کبھی غم ملے تو بلا کا ہو، مجھے وہ بھی ایک سرور دے

تو غلط نہ سمجھے تو میں کہوں، تیرا شکریہ کہ دیا سکوں
جو بڑھے تو بڑھ کے بنے جنوں، مجھے وہ خلش بھی ضرور دے

مجھے تو نے کی ہے عطا زباں، مجھے غم سنانے کا غم کہاں
رہے ان کہی میری داستاں، مجھے نظق پر وہ عبور دے

یہ جو زلف تیری الجھ گئی، وہ جو تھی کبھی تیری دھج گئی
میں تجھے سنواروں گا زندگی، میرے ہاتھ میں یہ امور دے

Rate it:
Views: 410
12 Oct, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL