میری زندگی کے چار دن
Poet: Ayesh khan By: Ayesh khan, karachiمیری زندگی کے چار دن
گزرے کہاں کچھ یاد نہیں
مہکے پلوں میں جو لوگ پاس تھے
کھوئے کہاں کچھ یاد نہیں
مجھے یاد ہے وہ لمحہ حسین
جب آ ملا تھا مجھ سے وہ اجنبی
میرے دل کے نگر میں وہ آ بسا
کب پہنچا وہاں کچھ یاد نہیں
یہ سوچا تھا کب کہ ہجر بھی ہے
ہاں سکھ کے ساتھ دکھ بھی ہے
مجھ سے مل کر وہ چھن گیا
ہوا کب جدا کچھ یاد نہیں
عائش تاریکی کا تھا وہ سفر
گزرنے میں جس کو صدیاں لگیں
پہنچ کر منزل پہ بھی الجھ گئے
ہم جائیں کہاں کچھ یاد نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






