میری سوچوں میں کبھی چھاتے ہیں منظر
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiمیری سوچوں میں کبھی چھاتے ہیں منظر
ہر سانس سانس کو یہ لبہاتے ہیں منظر
میں نے بادلوں کی گھٹاؤں میں دیکھا
تیرے آنچل کی طرح لہراتے ہیں منظر
نہ جانے کس کی صدا سی اٹھی ہے
کہیں سرابوں میں پھر آتے ہیں منظر
ہواؤں سے کرم کی تھپکیاں پاکر
میری نیندوں کو روز سلاتے ہیں منظر
الجھنیں، دھڑکنیں، اور کچھ کروٹیں
کس کس پہر کو جگاتے ہیں منظر
سارے جہاں سے دانہ دانہ چُن کر
کچھ سکوں اب بھی لاتے ہیں منظر
کئی دنوں کی عبث ویرانیوں کے بعد
کبھی اُس بام سے آتے ہیں منظر
اِن سرگردانوں کے رُخ کو سنتوشؔ
آخر یہ کہاں کہاں ٹھہراتے ہیں منظر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






