میری طرف سےعید کی پر خلوص مبارک باد پیش ہے

Poet: mohammed masood By: mohammed masood , meadows nottingham uk

پردیسیوں کے دکھ پردیسی ھی جانتے ھیں
کیسے گذرتے ھیں ماہ وسال پردیسی ھی جانتے ھیں

غم میں تنہااورخوشی میں بھی تنہا
کیسے گذرتے ھیں یہ لمحات پردیسی ھی جانتے ھیں

دل چاہتا ھے کبھی کسی کی گود میں سررکھ کر روئیں
کیسے یاد آتی ھے ماں پردیسی ھی جانتے ھیں

سر پہ والد کا محبت بھرا ھاتھ یاد آئے جب
کیسی ھوتی ھے کیفیت پردیسی ھی جانتے ھیں

نہ بھائیوں کے چہرے کی جھلک اور نہ بہن کی محبت میسر
کیسے یاد آتےہیں یہ رشتے پردیسی ہی جانتے ھیں

جہاں کھیلتے تھے دوستوں کے ساتھ دن رات
کیسےیادآتے ھیں وہ گلی کوچے پردیسی ھی جانتے ھیں

تھوڑے دن ھی تو رہ گئے ھیں وطن واپسی میں
کیسے کاٹ رھے ھیں یہ گھڑیاں پردیسی ھی جانتےھیں

Rate it:
Views: 717
06 Aug, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL