میری وفاؤں کا کوئی صلہ دیجیئے
Poet: احسن فیاض By: Ahsin Fayaz, Badinمیری وفاؤں کا کوئی صلہ دیجیئے
میری رگِ لہو میں زہر ملا دیجیۓ
میں گماں لئے بیٹھا ہوں کوئی آئیگا
میرے دروازے کی زنجیر ہلا دیجیۓ
زخم پے زخم کھا رہا ہوں مگر اب
تیرے در پے آں پڑا ہوں دوا دیجیۓ
مخلصی کے زمانے گذر گئے اور اب
جناب عشق کیجیۓ اور دغا دیجیۓ
دل اور جلائو کے اس سوغات سے
بچ جائوں پھر بددعا دیجیۓ
دیکھنا چاہتے ہیں کسی حسن ور کو
اس ستمگر کو آئینا دیجیۓ
آج طبیت بہت اداس ہے ساقی
آج شراب میں کچھ ملا دیجیۓ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






