میری کہانی
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRMINGHAMمیں آدمی ناچیز ہوں بڑا با تمیز ہوں
خداکا مجھ پہ کرم ہے مزاج ذرا گرم ہے
میری شاعری بھی عجیب ہے مگر حقیقت کے قریب ہے
کوئی کاروبار نہ دکان ہے اک کرائے کا مکان ہے
رب کی رضا پہ خوش ہوں کہ سلامت میرا ایمان ہے
میری محبت کی درد بھری کہانی ہے جو آپ کو سنانی ہے
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں جوان تھا
ہمارے گھر کے سامنے اس کا مکان تھا
وہ مجھ سے محبت کرتی تھی میں اس بات سے انجان تھا
وہ میرے دل کی دھڑکن تھی میں اسکی جان تھا
وہ میرا گلشن تھی میں اس کا باغبان تھا
کچھ قسمت مہربان تھی کچھ اس کا احسان تھا
اک دوجےکے ہو جائیں اس کا یہی ارمان تھا
مگر میں اسے کیسے اپنا لیتا
میں تو پہلی بیوی سے پریشان تھا
اسے کھو کر سوچتا ہوں کہ میں کتنا نادان ٹھا
یہ میری زندگانی ہے بس اتنی میری کہانی ہے
جیسے بھی ہو زندگی تو بتانی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







