میری یاد تو آتی ھوگی (خود کلامی)
Poet: Faiza Umair By: Faiza Umair, Lahoreاے بھولنے والے! تمہیں میری یاد تو آتی ھو گی
میری چاھت تمہیں کبھی تمہیں رُلاتی ھو گی
مجھے کھونے کے بعد ھو گے تم نادم شاید
میری یاد میں تیری آنکھ اشک بہاتی ھو گی
رفیق و رقیب کی محفل سے جب اُکتاتے ھو گے
میری یادیں میری باتیں تجھے بہلاتی ھو گی
تنہائ میں میری یاد کا دیا جب جلتا ھو گا
میری محبت میری آرزو تمہیں تڑپاتی ھو گی
اے دُور کے رہنے والے! ہار جاؤ گے خود سے لڑتے لڑتے
میری سنگت میری چاہ کی تشنگی تجھے جلاتی ھو گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






