میرے ادنیٰ سے اشارے پہ ہیں سب رقص کناں
Poet: Azad By: Muhammad Zubair, Multanقاتل کے قصے، مقتل کی باتیں ہیں
آج کی محفل میں بھی کل کی باتیں ہیں
دیوانوں پر اک اک لمحہ بھاری ہے
ہوش کی باتیں کتنی ہلکی باتیں ہیں
اپنی لہتی دستی پر میں شرمندہ ہوں
تیرے لبوں پر تاج محل کی باتیں ہیں
یہ فصیلوں میں گھرا راج محل کس کا ہے
یہ پراسرار در و بام، انوکھے فانوس
بربط و چنگ و خم جام لئے دست بدست
منتظر کس کے ہیں یہ زہرہ جبینوں کا جلوس
میں شہنشاہ زمن ہوں کسے معلوم نہیں
ہر طرف موجب تعمیل ہیں فرمان میرے
میرے ادنیٰ سے اشارے پہ ہیں سب رقص کناں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






