میرے بچوں کا کوئی سہارا نہی
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiزندگی روٹھتی ہے مناؤ کوئی
دور دست قضا کو ہٹاؤ کوئی
پاس آؤ مرے پاس آؤ کوئی
مر رہا ھوں بچاؤ بچاؤ کوئی
پیھر کر منہ چلے ھو،
خدارا نہیں میرے بچوں کا کوئی سہارا نہیں
ایک قطرہ رگوں میں سماتا نہیں
خون ہاتھوں سے اب روکا جاتا نہیں
پیر اٹھتے تو تم کو بلاتا نہیں
کیا ستم ہے کوئی پاس آتا نہیں
بہ وجہ تو مدد کو پکارا نہیں
میرے بچوں کا کوئی سہارا نہیں
اسطرح دیکھتے ھو گزرتے ھوئے جیسے تصویر ہوں
لوگ مرتے ھوئے سنتے ہو
میرے نالے ابھرتے ھوئے مر رہا ہے کوئی
بین کرتے ہوئے ایک حقیقت ہوں
میں استعارہ تھی میرے بچوں کا کوئی سھارا نہیں
یہ صدا سسکیوں میں بدلنے لگی
جلتے بارود میں جان جلنے لگی
موت مٹھی میں دل کو مسلنے لگی
ایک امید حسرت میں ڈھلنے لگی
بجھتی آنکھوں میں کوئی اشارہ نہیں
میرے بچوں کا کوئی سہارا نہیں
کیا گلہ جو ٹھکانے لگایا گیا
کوئی شکوہ نہیں گر مٹایا گیا
بارہا یہ ستم آزمایا گیا
جو منور ہوا وہ بجھایا گیا
قاتلو! تم پہ کیا آشکارا نہیں
میرے بچوں کا کوئی سہارا نہیں
اپنے بچوں کا واحد سہارا تھا میں
ان لبوں پر مسرت کا نعرہ تھا میں
ان کی راہوں کا قطبی ستارا تھا میں
ان کے فردا کا روشن نظارا تھا میں
اب وہ نعرہ،ستارہ،نظارہ نہیںْ
میرے بچوں کا کوئی سہارا نہیں
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






