میرے جذبوں کی ترجمانی
Poet: kaiser Mukhtar By: Kaiser Mukhtar, Hong kongیہ موسم میرے جذبوں کی ترجمانی کرے
کیا کروں میں جو اٹھکیلیاں جوانی کرے
ہر ایک جذبے کو پابند سلاسل رکھوں
یہ کیسے ہو کہ نہ دل کبھی نادانی کرے
میرے وجود کی ہر رگ میں ہے خلوص ووفا
خلاف وضع نہ دل میرا کوئی کہانی کرے
قصہ غم کو میں کب تلک دھرائے جاؤں
کوئی تو ہو جو میری بات اپنی زبانی کرے
کون کافر ہے جو تردید وفا کر بیٹھے
جو حسن اس کا ہر لمحہ حشر سامانی کرے
تمام جذبے ہیں منسوب حسن ناداں سے
ہر ایک دل کونپل ناداں کی باغ بانی کرے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







