میرے جنوں کو نئی زندگی عطا کر کے
Poet: وشمہ خان وشم By: وشمہ خان وشم, ROMANIAمیرے جنوں کو نئی زندگی عطا کر کے
کہاں چلے ہو مجھے روح سے جدا کر کے
وہ ارتعاش دلاتا ہے ٹھہرے پانی کو
مجھے پکار رہا ہے جو بے صدا کر کے
ہمیش ہم نے تری رب سے آرزو کی ہے
کہ تجھ کو لب پہ سجائے ہیں ہم دعا کرکے
جس اک خیال پہ لکھتے رہے ہیں ساحر و فیض
ہم اس خیال کو لکھیں ذرا جدا کر کے
میں جانتی ہوں کہ حاصل کبھی نہ ہو گا کچھ
اے میرے چاند مجھے آپ سے گلہ کر کے
میں اس کی ہوگئی جب ،سب بنے مرے دشمن
مجھے وہ چھوڑ گیا ، سب کو ہم نوا کر کے
جو میری قید پہ شاداں کبھی ہوئے وشمہ
وہ اشک بار ہوئے ہیں مجھے رہا کر کے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






