میرے خواب
Poet: Hassan Kayani By: Hassan Kayani, Leeds (UK)انکا محبت بھرا پیام آئے
وفا سے بھرپورسلام آئے
اھل چمن کی امید برآئے
تڑپتی بلبل کو بھی آرام آئے
وفا کی خوشبو ھر طرف پھیلے
سکون دل کو بھی دوام آئے
شجر سے پیوستہ رھیں پتے
میری زندگی کسی کےکام آئے
تیرے درد سارے مھےمل جائیں
تیرے مداحوں میں میرا نام آئے
جہاں میں انکو مرتبہ ملا
جو راہءحق میں کام آئے
غریب کو انصاف ملے
یتیم کو گھر کا بام آئے
خرد کی دنیا سے نجات ملے
عشق کی منزل کا مقام آئے
میرے شجرکو جس نے کاٹا ھے
لب پر اسی کیلئےدعائےعام آئے
جونہی دکھ درد کے لمحات آئیں
درد بانٹنے کے لیئے ہجوم آئے
میرے وطن تیرا بول بالا ھو
تیرے ھی ساتھ میرا نام آئے
دھر میں جوانوں کو مہمیز ملے
شوق تسخیر کا انکو عزم آئے
یقین پر جب بھی کوئی سوال آئے
اعتماد سے بھرپور کلام آئے
طرز کہن کو ھم مٹا پائیں
جہان نو کا نیا نظام آئے
میرے باغوں کو وہ بہار ملے
کہ ھر اک شاخ پہ آم آئے
ظلمت شب میں شمع امید جلے
ھر طرف اجالوں کا موسم آئے
نئے جہانوں کی تحقیق کرو
نئے نظام سے منزل قیام آئے
حرام خوری سے اجتناب آئے
حلال کا لقمہ ء طعام آئے
نیکی برائی پر غالب آئے
خدا کرے مصطفا کا نظام آئے
عشق رسول سے دل مزین ھو
شب رحلت ھو یاشب غم آئے
راتوں کو سجدوں میں سکون ملے
دن کو بھی عدل کا نظام آئے
لحد میں بھی جب فرشتے پوچھیں
لب پہ کلمہ ء حق ھی کام آئے
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






