میرے خوابوں میں آجانا نہ ہوا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیامیرے خوابوں میں آجانا نہ ہوا
بات کر کے غضب کیا نہ ہوا
خواب مٹی کے ہو گئے اپنے
اپنی آنکھوں کا رتجگا نہ ہوا
گھر سے جاتی نہیں ہے ویرانی
اپنے گھر سے آشنا نہ ہوا
غم ہی بخشے تمہاری ہجرت نے
اپنے آنگن میں ہی ہوا نہ ہوا
بیٹھے رہتے تمہارے گلشن میں
جیسے بلبل کی اک صدا نہ ہوا
دو گھڑی غم بھلا کے دیکھتے ہیں
بہت ان سلسلوں کو سہہ نہ ہوا
اب جو مجھ سے خفا یہ قسمت ہے
وشمہ دنیا سے یوں جدا نہ ہوا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






