میرے دل میں تھا یقیں جاناں
Poet: Rukhsana kausar By: Rukhsana kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratمیرے دل میں تھا یقیں جاناں
تم آؤ گے
تو تیری بانہوں میں ڈال کر بانہیں
کروں گی تجھ سے بہت سی باتیں
سب حال کہہ دوں گی دل کا
کہ میں بہت دنو ں سے سوئی نہیں
سوائے تیری یاد کے میرا کوئی نہیں
فقط تجھ کو ہی یاد کرتی ہوں
تیرے ہی کلمے پڑھتی ہوں
تیری ہی باتیں کرتی ہوں
مجھے تم سے بہت محبت ہے
تیری تصویر رکھ کے سامنے
اسے یوں پوجتی رہتی ہوں
سوچا تھا کہوں گی سب تم سے حال دل
مگر! جب آ کر دیکھا تم نے بس اک نظر
تو اک لفظ بھی نہیں کہہ پائی تم سے
فقط اتنا ہی کہا تم سے
سنو
“کیا حال ہے تمھارا “
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






