میرے دل کی سب سن لی ہیں تم نے
Poet: MAZHAR IQBAL GONDAL By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiمیرے دل کی سب سن لی ہیں تم نے
لیکن کچھ تو اپنے دل کی بھی سناؤ گی
نکل آےؑ گا چاند صرف ایک پل میں
گیسو جوںہی رخ سے تم ہٹاؤ گی
کب سے بیٹھا ہوں یہاں تیرے انتظار میں
اب آ بھی جاؤ دل ناداں کو کب تک جلاؤ گی
حسین ہو ،حسن تیرا من کو بھایا
اتر کے دل سے کیا ماں سے پٹاؤ گی
رات ڈھل گئی راہ تیری دیکھتے ہوےؑ
نہ آ کے کام والوں سے مراؤ گی
پردیسی کی جان ، جگر، دل سب ہے تیرا
اب بھی گر نہ آ سکو تو خود لٹاؤ گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






