میرے دکھوں کا حساب کیا ہے

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

دستے دعا کیا ہے
جھکتی نگاہ کیا ہے
ہیں چاروں طرف ذکر تیرا
پھر بھی پوچھتے ہو ؟
کہ میری اناء کیا ہے

تیرا تصویر کیا ہے
تیری جدائی کا دسمبر کیا ہے
مٹ گیے ارمان سارے
پھر بھی پوچھتے ہو ؟
کہ ارمانوں میں کیا ہے

میرا جنوں کیا ہے
میری انتہا کیا ہے
پھر بھی پوچھتے ہو ؟
جو دل سے نکلتی ہیں دعا کیا ہے

میرے خواب کیا ہے
میرے احباب کیا ہے
پھر بھی پوچھتے ہو ؟
میرے ہاتھوں میں عذاب کیا ہے

میری خطاء کیا ہے
میری سزا کیا ہے
خون جگر سے ہیں سینا بھرا ہوا
پھر بھی پوچھتے ہو ؟
میرے دکھوں کا حساب کیا ہے

Rate it:
Views: 450
27 Feb, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL