میرے دیس میں
Poet: Shaikh Khalid Zahid By: Shaikh Khalid Zahid, Karachiمیرے دیس میں
بے یارو مدد گار لوگ رہتے ہیں
جہاں رات ڈھل جاتی ہے،
فرش کو بچھونا ، اینٹ کو سرہانا بنا کر
اسے ہی شبستاں کہتے ہیں
میرے دیس میں
بھوکے ننگے لوگ رہتے ہیں
سوچنے سمجھنے سے عاری بیچارے
ایسا جنگلوں میں بھی نہیں ہوتاہوگا
یہاں تو امیرِ شھر کہ حکم پر سڑکیں لاشوں سے ڈھانپ دی جاتی ہیں
کوئی بھی جو کچھ کہتا ہے، بس مانتے رہتے ہیں
میرے دیس میں
روحوں سے خالی ، ہڈی ماس کہ پنجر رہتے ہیں
دھرتی پر بوجھ کی جیسے رہنے والے ، ٹھنڈے کمروں میں بیٹھنے والے
انکے کل کا لائحہ عمل بناتا ہے، کوئی ڈنڈے پڑواتا ہے
کوئی گولی سے مرواتا ہے
ہر روز سنگ سار ہوتے رہتے ہیں
میرے دیس میں
فرزندانِ اسلام رہتے ہیں
عاشقانِ رسول ﷺ بھی کہلاتے ہیں
دین کہ نام پہ مارنے مرنے لگ جاتے ہیں
مسجدوں، مندروں ، کلیساؤں کو جلاتے ہیں
سے کوئی محفوظ نہیں، ہم سے ہم محفوظ نہیں
میرے دیس میں
بہت معصوم لوگ رہتے ہیں
اکیسویں صدی جس کو کہتے ہیں
اس میں بھی بجلی، پانی، گیس،نکاسی آب کو روتے رہتے ہیں
اپنے ہی سامان کو توڑتے ہیں آگ لگاتے ہیں
اپنے ہی املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں
مگر حکمرانوں کی جے جے کہ نعرے لگاتے رہتے ہیں
دم بھرتے رہتے ہیں
میرے دیس میں
بے یارو مدد گار لوگ رہتے ہیں
بھوکے ننگے لوگ رہتے ہیں
روحوں سے خالی ، ہڈی ماس کہ پنجر رہتے ہیں
بہت معصوم لوگ رہتے ہیں
جو خود کو
فرزندانِ اسلام کہتے ہیں
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






