میرے رہنما
Poet: Afnan By: Afnan Hassain, Rahim yar khanمیرے راہنما میرے دلربا
کہا تجھ سے میں نے تو کچھ نہیں
نہ گلہ کوئی نہ شکائتیں
نہ بے سبب ملاقاتیں
نہ ہجوم اتنا کہ سُن سکے
نہ رہے تنہا کہ گنگنا سکے
میرے راہنما میرے دلُربا۔
یہ جو تم نے سُن لی ذراذرا
وہ تمام باتیں ہیں بے گناہ
نہ جرم تھا اتنا کہ وکیل ہو
نہ تھے بے شرم کہ ہوں سفارشیں
میرے راہنما میرے دلربا
یہ جو لوگ کہتے ہیں ایک دن
ہمیں تم سے تھیں کبھی نفرتیں
تو یہ جھوٹ ہے
سب جھوٹ ہے
ہم تو ایک پل کے بھی ہیں گواہ
کہیں گزر نہ جائے تیرے سواہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






