میرے ساقی

Poet: Khalid Roomi By: Khalid Roomi, Rawalpindi

ایک جام ایسا میرے ساقی ! عنایت کرنا
مجھ کو ہے اور ابھی ماتم حسرت کرنا

مثل حاتم کبھی ایسی بھی سخاوت کرنا
تم ذرا اور بھی افزوں غم فرقت کرنا

در زنداں ہے، میرا سر ہے، جنوں خیزی ہے
پھر بیاں مجھ سے بہاروں کی حکایت کرنا

ان کی تصویر نگاہوں میں بسائے پھرنا
رات دن انکی تمنائے زیارت کرنا

غنچئہ شوق کو آتا ہے لہو کرنا انہیں
دل کی میت پہ بپا جشن مسرت کرنا

ابھی باقی ہیں کئی تار گریباں میں میرے
ابھی زیبا ہے یہ ہنگامئہ وحشت کرنا

زخم بیتاب ہیں پھر مشق ستم سہنے کو
تم ذرا آ کے مک پاشی کی زحمت کرنا

نہ تو کم ظرف ہیں ہم اور نہ ہی کج فطرت
ہمیں آتا ہے عدو سے بھی محبت کرنا

درد و آلام نے کھولی ہے میرے دل کی گرہ
غم کی رومی ! نہ مناسب ہے شکایت کرنا

Rate it:
Views: 493
09 Feb, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL