میرے سامنے بیٹھ جاؤ مجھے غزل لکھنی ہے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaمیرے سامنے بیٹھ جاؤ مجھے غزل لکھنی ہے
کوئی اداء سی دیکھاؤ مجھے غزل لکھنی ہے
بیان کرنا ہے ترا حُسن اِس غزل میں
اپنے بارے میں بتاؤ مجھے غزل لکھنی ہے
پردہ نشین بہت لکھ لیا ترے حجاب پے
ذرا گونگھٹ تو اُٹھاؤ مجھے غزل لکھنی ہے
میری سوچ کے گلشن میں ہواؤں کے سنگ
ذرا جھومتے ہوئے آؤ مجھے غزل لکھنی ہے
خوش خط لکھنے میں ذرا کمزور ہوں جی!
ہاتھ پکڑ کے لکھاؤ مجھے غزل لکھنی ہے
کیا سوچے گے دنیا والے مت سوچو
فکروں کو آگ لگاؤ مجھے غزل لکھنی ہے
کومل پَری کوئی خاص تم ہی ہو جاناں!
یُوں نہ اب شرماؤ مجھے غزل لکھنی ہے
نہال رات ہو چکی بہت اب جانے دو
تم بھی سو جاؤ مجھے غزل لکھنی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






