میرے غم خانے سے خوشیوں کی تلاشی لے لے
Poet: rehan By: rehan, lahoreوقت ہاتھوں سے گرے جائے ہیے پانی کی طرح
ابھی کچھ دن میں مجھے چھوڑ کے چل دے گا وہ
چند خوابوں نے مری آنکھ پہ دستک دی ہے
لوٹ جائیں گے دلِ زار کو جب دیکھیں گے
میں نئے خواب بھلا کیسے سجا سکتا ہوں
پچھلے خوابوں کے ہیں لاشے ابھی بے گووکفن
میرے غم خانے سے خوشیوں کی تلاشی لے لے
ایک بھی لمحہ مسرت کا نہ مل پائے گا
تو نے دیکھا ہے چمکتے ہوئے سورج کو بس
تجھ کو معلوم نہیں نور کی تخلیق کا دکھ
کتنا ناداں ہے مراچاہنے والا ریحان
جو مری ذات سے امید لگا بیٹھا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






