میرے قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ
Poet: Hassan Kayani By: Hassan Kayani, Leeds (UK)میرے پاکستان کا کیا حال کیا ھے تم نے
اس کو دھشت گردوں کودے دیا ھے تم نے
میرے قائد نے کل خواب میں مجھ سے فرمایا
ان وطن دشمنوں کو دندناتاچھوڑ دیا ھے تم نے
اٹھو اور اس سفاک دشمن کا قلع قمع کر دو
میرے جوانوں کو عیش و آرام سکھا دیا ھےتم نے
وطن میں امن قائم کرو اور انصاف کا بول بالا کرو
ان سے برداشت و محبت کا درس چھین لیا ھے تم نے
اٹھو اور اس ملک خداداد کی تعمیر میں حصہ لو
میری طرح کام کام اور کام کرنا چھوڑ دیا ھے تم نے
اقبال جیسے مفکر و دانشور کہاں چلے گئے
اپنےبچوں کے لیے انہیں نمونہ بنانا چھوڑ دیا ھے تم نے
زندگی میں اتحاد تنظیم اور یقین محکم پر عمل کرو
افسوس میرے ان اصولوں کو فراموش کر دیا ھے تم نے
جمہوریت طرز حکومت ھی ملک کے آئین میں ھے
مگر جمہور و عوام کو سننا چھوڑ دیا ھے تم نے
سچائی آزادئ اظہار رائے کا بہترین زریعہ ھے
اسے بھی جھوٹ سے خلط ملط کر دیا ھے تم نے
مزھبی آزادی اور راواداری کا ھمیشہ خیال رکھو
میانہ روی کو بھی ترک کر دیا ھے تم نے
قومی و ملکی سلامتی کو ھر حال میں مقدم جانو
اس کو بھی غیروں کے ھاتھوں بیچ دیا ھے تم نے
سماجی اور نسلی منافرت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکو
بچوں اورعورتوں کے حقوق کو پامال کر دیا ھےتم نے
بچوں کو علم و ھنر کے زیور سے آراستہ کر دو
تعلیم کو بجٹ میں اھمیت دینا چھوڑ دیا ھے تم نے
نظریہ پاکستان اور مساوات کو ھر حال میں زندہ رکھو
قوم کو تقسیم کر کے تاریخ میں الجھا دیا ھے تم نے
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






