میرے محبوب (پہلی نظر کی کاوش)
Poet: ARIF KHAN SAIM By: ARIF KHAN, HYDERABADجب تک دیکھا نہ تھا تجھے دنیا سے بے خبر تھا
دیکھا جو تجھے احساس ہوا میں ہی بے نظر تھا
تجھ کو پانے کی تمنا دل میں لئے آیا ہوں
دل میں بسالے مجھ کو دنیا کا مارا ہوں
ایک امید تیری نظر میں جاناں نظر آئے
ڈر ہے تجھ کو بھی نہ زمانہ چھین لے جائے
خدارا تو کبھی نہ مجھ سے ناراض ہونا
دنیا کی رونقوں میں جاناں کبھی نہ کھونا
میرا دل چاھتا ہے صنم صرف تجھے
اپنے سارے غم بس دے دے مجھے
میرے محبوب ۔ تو جو روٹھے تو زمانہ روٹھے
تجھ سے بچھڑ کر میری ھر سانس کا بندھن ٹوٹے
دل میں تجھے بسا کر جی لوں گا ھر موڑ پر
دستور ح زمانے کا چاھے دے ھزاروں ٹھوکر
میں اب تجھے یادوں کے جھرونکوں سے کھوسکتانھیں
تجھ سے بچھڑ کر ایک پل بھی سو سکتا نھیں
آجا ایک بار آئی تیری یاد ہے زیادہ
نہ بچھڑنے کا صائم تو نے کیا تھا وعدہ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






