میرے پیا کا کیا کہنا؟
Poet: مونا شہزاد By: Mona Shehzad, Calgaryمیرے پیا کا کیا کہنا ؟
میرے من میں ان ہی کا بسیرا
جیسے بگیا میں پهولوں کا مہکنا
ایسے ہی میرے رینا میں پیا کا آشیانہ
جیسے زرتار ڈوپٹہ میں کہکشاں کی تاریں
ایسے ہی میرے من میں اس کی پریت کے سلمہ ستارے
جیسے صبا کا ساتھ ہو ساگر سے
جیسے چندا کا ساتھ ہو رات سے
ایسے ہی میرے پیا کا ساتھ مجه باوری سے
دن رات بهلائے بیٹهی ہوں
پیا کے در آئی بیٹهی ہوں
چراغ شب کی طرح ٹمٹماتی ہوں. نہ جلتی ہوں، نہ بجهتی ہوں
پپیہا بن کوکتی ہوں
پی کہاں؟پی کہاں؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






