میرے گلشن میں خزاں کا ہے بسیرا پھر بھی

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیا

اور اس جیسی بجھارت بھی نہیں ہوسکتی
زیست کے ساتھ تجارت بھی نہیں ہوسکتی

ہم ترے ساتھ محبت بھی نہیں کر سکتے
اور ترے ساتھ شرارت بھی نہیں ہوسکتی

ہم تو بس دیکھ ہی سکتے ہیں ترا رنگ ہنر
اپنے جیسوں سے نصیحت بھی نہیں ہوسکتی

میرے گلشن میں خزاں کا ہے بسیرا پھر بھی
غم میں غمگین ہوں حالت بھی نہیں ہوسکتی

میری یہ زیست مثالی ہے ترا پیار ملا
اس سے بڑھ کر تو فضیحت بھی نہیں ہوسکتی

ایسے منصف سے بھلا اور امیدیں کیا ہوں
جس سے اپنی ہی وکالت بھی نہیں ہوسکتی

وہ تو کہتے ہیں سبھی چھوڑ کے آؤ ملنے
وشمہ ہم سے یہ جہالت بھی نہیں ہوسکتی

Rate it:
Views: 355
13 Jan, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL