میرے گھر کا نشانہ

Poet: syed hammad raza naqvi By: syed hammad raza naqvi, Faisalabad

تیری یاد مے بیٹھے تھے یہ قصہ پرانہ مل گیا
آج دشمن کو میرے گھر کا ٹھکانہ مل گیا

میرے دل کی دسترس مے دستک پیار ہوئی
تیری یادوں کو پھر سے آنا جانا مل گیا

وہ آج دل داغ دار سے شکوہ کرنے بیٹھ گئے
دل کو بھی ان سے بات کرنے کا بہانہ مل گیا

وہ پابند شریت بے نقاب تھا آج
جوانی مے بے قراری کو بچپن کا زمانہ مل گیا

وہ آج شب خواب مے چلے آئے رضا
پھر کیا ہونا تھا مسافر کو آشیانا مل گیا

Rate it:
Views: 352
10 Jul, 2016
More Sad Poetry