میرے ہاتھوں میں
Poet: Aazi By: Azam, Gujranwalaمیرے ہاتھو میں اپنے نا کی لکیر دیکھنا
میری آنکھوں میں اپنے حسن کی تصویر دیکھنا
کیا تھے اور کیا بنا دیا تیری الفت نے
کیسے بن گئے ہیں تیرے پیار میں فقیر دیکھنا
بہت ناز ہے نا تجھے اپنے حسن کی دولت پہ
میرے پاس بھی ہے زخموں کی جاگیر دیکھنا
میرے ہو اور میرے ہی رہو گے ہمیشہ
رنگ لائے گی سچے پیار کی تحریر دیکھنا
بہہت ظلم سہے ہیں تیری جدائی کے میں نے
سدا اک جیسی نہیں رہتی تقدیر دیکھنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






