میں آئینہ تھا وہ میرا خیال نہ رکھتی تھی
Poet: Momina By: Momina, Multanمیں آئینہ تھا وہ میرا خیال نہ رکھتی تھی
میں جڑتا تھاوہ توڑ تاڑ کے رکھتی تھی
کسی بھی مسئلے کا حل نہیں تھااس کے پاس
بلا کی کند ذہن تھی مجھے حیرت میں ڈال رکھتی تھی
میں جب بھی تعلق جوڑنے کی بات کر تا تھا
وہ روکتی تھی مجھے کل پہ ٹال رکھتی تھی
وہ میرے زخموں کو کریدتی تھی اپنے ناخنوں سے
پھر اس رِستے زخموں پہ نمک چھڑ کا کے رکھتی تھی
وہ ابھرنے ہی نہی دیتی دکھ کے دریا سے مجھے
بمشکل میں نکلتا تھا وہ واپس اچھال رکھتی تھی
حسیناوں کو وہ بلائیں سمجھ کےروک لیتی تھی
وہ میرے چار سو تلواروں کی ڈھال رکھتی تھی
اک ایسی گرج کہ جان و دل دہل جائیں
اسکی منفرد ہنسی ہاتھی کی چنگاڑ کا سا کمال رکھتی تھی
اسے آسانیاں میری کہاں گوارہ تھیں
وہ ہر وقت مجھے مشکل میں ڈال رکھتی تھی
بچھڑ کے اس سے میں بہت مزے میں ہوں
وہ پاس تھی تو میرا جیناحرام رکھتی تھی
وہ منتظر رہتی تھی کہ کب موسمِ گرما آئے
وہ سخت دھوپ میں مجھے کان پکڑوا کے کھڑا رکھتی تھی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






