میں آئینہ تھا وہ میرا خیال نہ رکھتی تھی
Poet: Momina By: Momina, Multanمیں آئینہ تھا وہ میرا خیال نہ رکھتی تھی
میں جڑتا تھاوہ توڑ تاڑ کے رکھتی تھی
کسی بھی مسئلے کا حل نہیں تھااس کے پاس
بلا کی کند ذہن تھی مجھے حیرت میں ڈال رکھتی تھی
میں جب بھی تعلق جوڑنے کی بات کر تا تھا
وہ روکتی تھی مجھے کل پہ ٹال رکھتی تھی
وہ میرے زخموں کو کریدتی تھی اپنے ناخنوں سے
پھر اس رِستے زخموں پہ نمک چھڑ کا کے رکھتی تھی
وہ ابھرنے ہی نہی دیتی دکھ کے دریا سے مجھے
بمشکل میں نکلتا تھا وہ واپس اچھال رکھتی تھی
حسیناوں کو وہ بلائیں سمجھ کےروک لیتی تھی
وہ میرے چار سو تلواروں کی ڈھال رکھتی تھی
اک ایسی گرج کہ جان و دل دہل جائیں
اسکی منفرد ہنسی ہاتھی کی چنگاڑ کا سا کمال رکھتی تھی
اسے آسانیاں میری کہاں گوارہ تھیں
وہ ہر وقت مجھے مشکل میں ڈال رکھتی تھی
بچھڑ کے اس سے میں بہت مزے میں ہوں
وہ پاس تھی تو میرا جیناحرام رکھتی تھی
وہ منتظر رہتی تھی کہ کب موسمِ گرما آئے
وہ سخت دھوپ میں مجھے کان پکڑوا کے کھڑا رکھتی تھی
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






