میں اداس بہت ہوں

Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOT

میری تنہائی میں آجاؤ دو پل میں اداس بہت ہوں
تم بن میری جان آج کل میں اداس بہت ہوں

مجھے روک نہ اے ساقی جام پینے دے جی بھر کے
اپنے ہاتھوں سے مجھے ہونے دے قتل میں اداس بہت ہوں

اتنی جلدی نہ منہ پھیر کے چندا تو چھپ جا
کچھ دور تو میرے ساتھ چل میں اداس بہت ہوں

تجھے اپنی خوشیوں کی پڑی ہے یہاں میری جان پہ بنی ہے
تجھے یہ احساس ہی نہیں پاگل میں اداس بہت ہوں

اور تو سب ٹھیک ہے لیکن اک بات ضروری ہے
اسے جا کے کہنا اے بادل میں اداس بہت ہوں

امتیاز وہ جتنا بھی خفا ہوگا آجائے گا مجھ سے ملنے
اگر اس نے سن لی میری غزل میں اداس بہت ہوں

Rate it:
Views: 965
18 Jan, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL