میں اس سے دور ہوں یہ دل ہے بے قرار بہت (گیت)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistanمیں اس سے دور ہوں یہ دل ہے بے قرار بہت
وطن کی مٹی پہ آتا ہے مجھ کو پیار بہت
مرا وطن تو زمیں پر ہی ایک جنت ہے
خدا کا لاکھ کرم ، اس کی خاص رحمت ہے
ہر ایک چیز پہ دیکھو تو ہے نکھار بہت
وطن کی مٹی پہ آتا ہے مجھ کو پیار بہت
حسیں فضائیں ہر اک سمت گنگناتی ہیں
ہوائیں جھوم کے چلتی ہیں ، مسکراتی ہیں
شجر شجر پہ اترتی ہے نو بہار بہت
وطن کی مٹی پہ آتا ہے مجھ کو پیار بہت
ہے ماں کی گود وطن کی زمین میرے لیے
کہ اس سے بڑھ کے نہیں کچھ حسین میرے لیے
قدم قدم پہ ہیں قدرت کے شاہکار بہت
وطن کی مٹی پہ آتا ہے مجھ کو پیار بہت
اگرچہ زیست میں میری کوئی کمی تو نہیں
وطن سے دور خوشی بھی مگر خوشی تو نہیں
کہ یاد آتے ہیں بچپن کے دوست یار بہت
وطن کی مٹی پہ آتا ہے مجھ کو پیار بہت
ہو اختیار تو اڑ کر وہاں چلا جاؤں
نجانے کیسا ہے اب میرا وہ حسیں گاؤں
اگے تو آج بھی ہوں گے وہاں چنار بہت
وطن کی مٹی پہ آتا ہے مجھ کو پیار بہت
جو کھیلتی تھی کبھی ساتھ یاد آتی ہے
پری وہ خوابوں میں آ کر مجھے ستاتی ہے
کیا تو ہو گا مرا اس نے انتظار بہت
وطن کی مٹی پہ آتا ہے مجھ کو پیار بہت
بچھڑ کے اپنوں سے پردیس میں ٹھکانا ہے
وہ اک زمانہ تھا اور یہ بھی اک زمانہ ہے
اکیلا رہ کے میں ہونے لگا بیزار بہت
وطن کی مٹی پہ آتا ہے مجھ کو پیار بہت
میں اس سے دور ہوں یہ دل ہے بے قرار بہت
وطن کی مٹی پہ آتا ہے مجھ کو پیار بہت
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






