میں اپنے جسم میں کچھ اس طرح سے بکھرا ہوں

Poet: عابد ادیب By: مصدق رفیق, Karachi

میں اپنے جسم میں کچھ اس طرح سے بکھرا ہوں
کہ یہ بھی کہہ نہیں سکتا میں کون ہوں کیا ہوں

انہیں خوشی ہے اسی بات سے کہ زندہ ہوں
میں ان کی دائیں ہتھیلی کی ایک ریکھا ہوں

میں پی گیا ہوں کئی آنسوؤں کے سیل رواں
میں اپنے دل کو سمندر بنائے بیٹھا ہوں

وہ میرے دوست جو ایک ایک کر کے دور ہوئے
میں ان کو آج بھی اپنے قریب پاتا ہوں

محیط کرنے کی کوشش فضول ہے مجھ کو
ندی کا چھور نہیں ہوں میں بہتا دریا ہوں

مجھی پہ پھینکے ہے پتھر جو کوئی آتا ہے
کہ جیسے میں تری کھڑکی کا کوئی شیشہ ہوں
 

Rate it:
Views: 172
27 Feb, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL