میں اپنے ماں باپ کے ساتھ زندگی بیتنا چاہتا ہوں
Poet: M.Masood By: M.Masood, Nottinghamمیں اپنے ماں باپ کے ساتھ زندگی بیتنا چاہتا ہوں
اُن کو کتنا پیار میں کرتا بس یہی بتانا چاہتا ہوں
کتنا اُن کو یاد کروں میں اُن کو یہ احساس نہیں
اُن کے سوا اِس زندگی میں میرا اور کوئی خاص نہیں
بس ایک بار میں گلے اُن کو اپنے گے لگانا چاہتا ہوں
میں اپنے ماں باپ کے ساتھ زندگی بیتنا چاہتا ہوں
اتنا دور کیوں آ گیا میں جانے کیا مجبوری تھی
زندگی اُن کے بنا ادھوری اُن کے ساتھ ہی پوری تھی
ایک دن لوٹ آوں گا بس یہ سمجھانا چاہتا ہوں
میں اپنے ماں باپ کے ساتھ زندگی بیتنا چاہتا ہوں
اب تو کئ عیدیں گزر گئی ساتھ کسی کا ملا نہیں
اندھیرے کمرے کے کونے میں ایک دیا بھی جلا نہیں
اِس عید کے سبھی دیۓ میں اُن کے ساتھ جلانا چاہتا ہوں
میں اپنے ماں باپ کے ساتھ زندگی بیتنا چاہتا ہوں
یہ لمبے لمبے راستے اور یہ اُونچی اُونچی عمارتیں
نہ دماغ کو کہیں سکون نہ دل کو ایک پل راحتیں
ماں کی گود میں سر رکھ کر خوابوں میں جانا چاہتا ہو ں
میں اپنے ماں باپ کے ساتھ زندگی بیتنا چاہتا ہوں
سب ہیں دوکھے باز یہاں سارے رشتے جھوٹے ہیں
کون اپنا ہے کون بیھگانہ سبھی تو ہم سے روٹھے ہیں
یہی وہ رشتہ ہے جو دل سے نبھانا چاہتا ہوں مسعود
میں اپنے ماں باپ کے ساتھ زندگی بیتنا چاہتا ہوں
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






